Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 9:یقینِ کامل کی برکتیں
20 - 30
سے روایت ہے کہ رسولِ کریم، رَء ُوْفٌ رَّحیم عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰو ۃِ  وَالتَّسْلِیْم کا فرمانِ عظیم ہے :اچھا خواب اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی طرف سے ہے اور بُرا خواب شیطان کی طرف سے تو جب تم میں سے کوئی پسندیدہ چیز دیکھے تو اپنے پیارے کے سوا کسی سے بیان نہ کرے  اور جب ناپسند بات دیکھے تو اس کے شر سے اور شیطان کے شر سے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی پناہ مانگے اور تین بار تھوک دے اور اس کی خبرکسی کو نہ دے تو وہ خواب اسے مضر نہ ہوگا۔)1 (
اس حدیثِ پاک کے تحت حضرت عَلَّامَہ ابو الحسن  اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  اللہ الْجَلَال فرماتے ہیں:جب کوئی اچھا خواب دیکھے توصرف اسی شخص سے بیان کرے  جو اس سے محبت کرتا ہے اس لیے کہ محبت کرنے والے کو وہ بات بری نہیں لگے گی جو اس کے دوست کو خوش کرنے والی ہے بلکہ وہ اس کی شادمانی پر خوش ہوگا اور اس بات کا حریص نہیں ہوگا کہ وہ اس کے اچھے خواب کی کوئی بُری تعبیر بیان کرے۔ اگراس نے اپنا خواب کسی ایسے شخص سے  بیان کیا جو اس سے محبت نہیں کرتا تو وہ اس خطرے سے محفوظ نہیں ہوگا کہ وہ (اپنے بغض وعناد اور حسد کی وجہ سے )اس کے اچھے خواب  کی کوئی  بُری تعبیر بیان کر دے اور وہ اسی کے موافق رونما ہوجائے  جیساکہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
… مُسلِم،ص۱۲۴۲،حدیث۲۲۶۱