Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 9:یقینِ کامل کی برکتیں
19 - 30
تعالٰی علیہ نے فرمایا: بلا شبہ یہ جھوٹ ہے لہٰذااس جھوٹ کے نتیجے کا میں ذمہ دار نہیں ہوں، اگر تو نے واقعی یہ خواب دیکھا ہے ، تو تیری بیوی ایک بچہ جنے گی ، پھر وہ مر جائے گی اور بچہ زندہ رہے گا ۔ اس کے بعد وہ شخص جب آپ رحمۃُ  اللہ تعالٰی علیہ کے پاس سے چلا گیا تو اس نے کہا : اللہ عَزَّوَجَلَّ   کی قسم! میں نے تو ایسا کوئی خواب نہیں دیکھا تھا ، یہ سن کر کسی نے کہا: لیکن آپ رحمۃُ  اللہ تعالٰی علیہ نے تعبیر تو بیان کر دی ہے ، حضرتِ سیِّدُنا ہِشام علیہ رَحْمَۃُ  اللہ السَّلَام فرماتے ہیں : اس واقعہ کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اس شخص کی بیوی نے ایک بچہ جنا ، پھر وہ مر گئی اور بچہ زندہ رہا۔ )1 (
خواب کو لوگوں سے چُھپاناکیسا؟
عرض:ایسی صورت میں تو یِہی مُناسِب معلوم ہوتاہے کہ لوگوں میں بیان کرنے کے بجائے خواب کو صیغۂ راز میں رکھا جائے۔
ارشاد:یہ مَحض ایک وَسْوَسَہ ہے،اچّھے اور سچے  خواب بیان کرنے اور سننے  میں کوئی مضایقہ نہیں البتہ  خواب دیکھنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنا خواب تعبیر جاننے  والے یا اپنے کسی خیر خواہ کے سامنے ہی  بیان کرے جو اس کے اچھے خواب  کو بری تعبیر  سے نہ بدل دے ۔حضرتِ سَیِّدُنا ابوقتادہ رضی  اللہ تعالٰی عنہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
… تاریخ  دمشق، ج٥٣،ص٢٣٢