اِس بات کے سبب جہنم میں اِس مِقْدار سے بھی زِیادہ گرے گا جس قَدَرمَشْرِق ومَغْرِب کے دَرمِیان فاصِلہ ہے۔‘‘ )1 (ياد ركھیے!خواب سُنانے والے سے قَسَم کا مطالَبہ کرنا شرعاً واجِب نہیں،جو مَعَاذَاللہ عَزَّ وَجَلَّجھوٹاہو گا وہ اپنے اس جھوٹ کو ثابت کرنے کے لیے جُھوٹی قَسم بھی کھالے گا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! جھوٹا خواب بیان کرنے اور اس کی تعبیر پوچھنے سے بچنا چاہیے کہ جھوٹے خواب کی بھی اگر تعبیر بیان کر دی جائے تو وہ واقع ہوجاتی ہے ، اس ضمن میں ایک حکایت ملاحظہ کیجیے چنانچہ حضرتِ سیِّدُنا ہِشام علیہ رَحْمَۃُ اللہ السَّلَام فرماتے ہیں : ایک شخص نے حضرتِ سیِّدُنا محمد بن سِیْرین علیہ رَحمَۃُ اللہ المُبین سے ایک خواب بیان کیا ، کہنے لگا: میں نے خواب دیکھا کہ میرے ہاتھ میں ایک شیشے کا پیالہ ہے، جس میں پانی بھی موجود ہے ، وہ پیالہ توٹوٹ گیا ہے ، مگر پانی جوں کا توں موجود ہے ، یہ سن کر آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ نے فرمایا :اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے ڈر ، (اور جھوٹ نہ بول ) کیونکہ تو نے ایسا کوئی خواب نہیں دیکھا ، وہ شخص کہنے لگا :سُبْحٰنَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میں آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ سے ایک خواب بیان کر رہا ہوں اور آپ رحمۃُ اللہ تعالٰی علیہ فرمارہے ہیں کہ تو نے کوئی خواب نہیں دیکھا ؟ آپ رحمۃُ اللّٰہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بخاری ، ج۴،ص ۲۴۱،حدیث۶۴۷۷