سے اپنے تمام گناہوں کی معافی مانگی اور توبہ کر لی ۔اجتماع کے بعد میں نے ایک نئی زندگی کا آغاز کیا ،جس میں نمازوں کی پابندی تھی، پردے کی عادت تھی،بڑوں کا ادب چھوٹوں پر شفقت تھی ، گُفْتار میں نرمی تھی، نگاہوں کی حفاظت تھی الغرض قدم قدم پر شریعت کی پاسداری کی کوشش تھی ۔دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول پرقربان ، جس کی بدولت مجھے سدھرنے کا موقع ملا ۔
جُھوٹا خواب بیان کرنے کا عذاب
عرض:جُھوٹا خواب گڑھ کر بیان کرنا کیسا ہے ؟
ارشاد:جھوٹا خواب گڑھ کر سُنانے والا سخت گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحْبوب، دانائے غُیُوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’جو جُھوٹا خواب بیان کرے اُسے بروزِ قِیامت جَوکے دو دانوں میں گانٹھ لگانے کی تکلیف دی جائیگی اور وہ ہرگز گانٹھ نہیں لگاپائے گا۔‘‘)1 (
ایک اور حدیثِ پاک میں ہے:’’ایک شخص ایسا کلام کرتا ہے جس میں (یعنی کلام کی قباحت اور اس کے انجام کے بارے میں ) وہ غور و فِکْر نہیں کرتا تو وہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بخاری،ج۴،ص۴۲۲،حدیث۷۰۴۲