خلیل۔ اپنے شوہَر کے نام کے ساتھ مشہور ہونے میں عقلاً بھی نقصان ہے کہ اگر خدانخواستہ شوہرِ نامدار نے طلاق دیدی یا شوہر پہلے فوت ہوگیاتو پھر؟ کیونکہ مرنے سے نِکاح ٹوٹ جاتا ہے لہٰذا عافیت اِسی میں ہے کہ عورت شادی کے بعد بھی پکارنے میں اپنے والدِگرامی کے ساتھ ہی نِسبت کا اِظہار کرے مثلاً ’’بنتِ قاسِم اور بنتِ ہاشِم‘‘وغیرہ۔ اسی طرح شوہر کو بھی چاہیے کہ بِلاضَرورت ’’میری بیوی(Wife)‘‘ کہنے کے بجائے حسبِ ضرورت ’’میرے گھر والے یا میرے بچوں کی امّی‘‘ وغیرہ کلِمات کہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو اور اسلامی بہنو!اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں ایسی ہی پیاری سوچ دی جاتی ہے آپ بھی دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے ہردم وابستہ ہوجائیے،مدنی ماحول میں جہاں اسلامی بھائیوں کی اصلاح ہورہی ہے وہیں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ اسلامی بہنوں کی بھی اصلاح ہو رہی ہے، آپ کی ترغیب وتحریص کے لیے ایک مدنی بہار پیش کی جاتی ہے ملاحظہ فرمائیے : چنانچہ بابُ المدینہ (کراچی )کی ایک اسلامی بہن کے بیان کا لبِّ لُباب ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی رنگ میں رنگنے سے پہلے بہت سی عورتوں کی طرح میں بھی بے پردگی،فیشن زدگی اور فحش کلامی جیسی برائیوں میں ملوث تھی ۔فلمیں ڈرامے دیکھنا میرا شوق اور گھروالوں