Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 9:یقینِ کامل کی برکتیں
15 - 30
اس سنّت میں عمل نہ کر سکا۔ )1 ( 
عورت کا اپنے شوہَر کو نام لے کرپُکارَنا کیسا؟
عرض:کیا عورت اپنے شوہر کا نام لے تو طلاق پڑجاتی ہے؟
ارشاد:عورت اپنے شوہر کا نام لے کر پُکارے تو اس سے طلاق نہیں پڑتی البتہ عورَت کا اپنے شوہر کو نام لے کر پکارنا مَکروہ ہے چنانچہ صَدْرُالشَّرِیْعَہ، بَدْرُالطَّریْقَہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں: ’’عورت کو یہ مَکْرُوہ ہے کہ شوہَر کو نام لے کر پُکارے۔ بعض جاہِلوں میں یہ مشہور ہے کہ عورت اگر شوہر کا نام لے لے تو نِکاح ٹوٹ جاتا ہےیہ غَلَط ہے،شاید اسے اس لئے گھڑا ہو کہ اِس ڈر سے کہ طلاق ہوجائے گی، شوہر کا نام نہ لے گی۔“ )2 (
پہلے کی خواتین اپنے شوہر کا نام لینے سے شرماتی تھیں لیکن آج کل اکثر عورَتیں ’’میرا شوہر، میرا شوہر‘‘ کہتے  تھکتی ہیں نہ لجاتی ہیں بلکہ شادی کے بعد بطورِ نسبت اپنے والِد کا نام لینا تو کُجا اپنا نام بھی بھُول جاتی ہیں اور لفظِ مِسِز یا بیگم کے ساتھ بِلا جھجک اپنے شوہر کا نام لیتی ہیں مثلاً مِسز جمیل یا بیگم
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ 
1… مِرآۃُ المناجیح ،ج۱،ص ۱۷۸
2 … بہارِشَریعت، ج۳،ص۶۵۷۔۶۵۸