نہ کچھ صدقہ کر دینا بہترہے تاکہ اس معاملے میں جو غفلت یا کوتاہی ہوئی وہ مُعاف ہو جائے۔ بعض علاقوں میں قرآنِ مجیدہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر تشریف لے آئے تو گندم یاآٹا قرآنِ مجید کے برابر تول کر صَدَقہ کر دیتے ہیں۔ گندم یا آٹا صدقہ کرنا اچّھاعمل ہے مگر قرآنِ مجید کے برابر تول کر خیرات کرنا ضروری نہیں بلکہ کمی بیشی کے ساتھ بھی صدقہ و خیرات کر سکتے ہیں ۔
نَنگے سربیتُ الخلا میں جانا کیسا؟
عرض:ننگے سر بیتُ الخلا میں جانا کیسا ہے؟
ارشاد: ننگے سر بیتُ الخلاء میں جانا ممنوع ہے۔صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ حضرتِ علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں:ننگے سر پاخانہ ،پیشاب کو جانا یا اپنے ہمراہ ایسی چیز لے جانا جس پر کوئی دُعا یا اللہ و رسول یا کسی بزرگ کا نام لکھا ہو ممنوع ہے۔ یوہیں کلام کرنا مکروہ ہے۔)1 ( لہٰذا بیت الخلا میں جاتے وقت سر کو کسی چیز سےڈھانپ لینا چاہیےکہ یہ سنّت ہے چنانچہ مُفَسِّر شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: سر ڈھک کر پاخانے جانا سنّت ہے، ننگے سر پاخانے جانے والا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… بہارِ شریعت ،ج۱،ص۴۰۹