سلسلۂ عالیہ چِشتیہ کے عظیم پیشوا،خواجہ خواجگان، سلطانُ الہند حضرت سیِّدُنا خواجہ غریب نواز حسن سَنْجَری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی کافرمان ہے: جو شخص قرآنِ شریف کو دیکھتا ہے اللہتعالیٰ کے فَضْل و کرم سے اس کی بِینا ئی زیادہ ہو جاتی ہے اور اس کی آنکھ کبھی نہیں دُکھتی اور نہ خشک ہوتی ہے۔ ایک مرتبہ ایک بُزرگ سجادے پر بیٹھے ہو ئے تھے اور سامنے قرآن شریف رکھا تھا۔ ایک نابینا نے آکر اِلتماس کی کہ میں نے بہت علاج کئے مگر آرام نہیں ہوا اب آپ کے پاس آیا ہوں تاکہ میری آنکھیں ٹھیک ہو جا ئیں۔ مَیں آپ سے فاتحہ کے لیے ملتجی(درخواست گزار)ہوں۔اس بُزرگ نے قِبلہ رُخ ہو کر فاتِحہ پڑھی اور قرآن شریف اُٹھا کر اس کی آنکھوں پر مَلاجس سے اس کی دونوں آنکھیں رو شن ہو گئیں۔)1 (
قُرآنِ پاک والے صندوق پر سامان رکھناکیسا؟
عرض:قُرآنِ پاک جس صندوق یا اَلْماری میں ہو اُس کے اُوپر سامان کا تھیلا (Bag)وغیرہ رکھ سکتے ہیں یا نہیں؟
ارشاد: قُرآنِ پاک جس صندوق یا اَلْماری میں ہو اُس کے اُوپر سامان کا تَھیلا (Bag)وغیرہ رکھنا تو دور کی بات فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللہ السَّلَام فرماتے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… دَلیْلُ الْعارِفِیْن اَزْ ہَشت بَہِشْت، ص۸۰