Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 8:سرکار صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اندازِ تبلیغِ دین
31 - 32
ہیں:بِالجملہ بلاضَرورتِ شَرعِیَّہ اس اَمرکامرتکِب نہ ہوگا مگر دین میں مداہِن (سُستی کرنے والا۔بات چُھپانے والا) یاعقل سے مَبائن (عاری)،سُبْحٰنَ اﷲ! کتنے شرم کی بات ہے کہ آدمی کے ماں باپ کواگرکوئی گالی دے اس کی صورت دیکھنے کوروادار نہ رہے اور خدا و رسول کوبُراکہنے والوں کوایسا یارِ غاربنائے!( اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۱۵۶﴾) (1)( ترجمۂ کنزالایمان:ہم اللہ کے مال ہیں اور ہم کو اسی کی طرف پھرنا۔)رسولُ اللہ صَلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمفرماتے ہیں: لَا یُؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُونَ اَحَبَّ اِلَیْہِ مِنْ وَالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ (یعنی)تم میں کوئی مسلمان نہیں ہوتا جب تک میں اسے اس کی اولاد اور ماں باپ اورتمام آدمیوں سے زیادہ پیارانہ ہوں۔(2)دلائل کثیرہیں اور گوش شِنْوا (یعنی جو سُن کر کہا  مانے اور عبرت حاصل کرے)کو اِسی قدرکافی، پھرجونہ مانے سنگدل ہے اور کافر آگ، آگ کاساتھ جوپتَّھردے گا وہ خود اِتناگرم ہوجائے گا کہ آدمی کو اس سے بچنا چاہئے، پس اگراہلِ اسلام ان لوگوں (یعنی کفار سے دوستی کرنے والوں) سے اِحتِراز (پرہیز) کریں کچھ بے جا نہ کریں گے۔‘‘ (3)      
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…… پ۲،البقرۃ:۱۵۶
2…… بُخاری، ج۱،ص۱۷،حدیث ۱۵ 
3…… فتاویٰ رَضَوِیّہ،ج۲۴،ص۳۱۹