بیزار ی نہیں کر سکتا ۔ مجھے پیش آنے وا لے حَوادِث کا اَندیشہ ہے اور مجھے ان کے سا تھ رسم و را ہ رکھنی ضَروری ہے ۔حُضُور سیِّدِ عا لم صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اس سے فرمایا کہ یہود کی دوستی کا دم بھرنا تیرا ہی کام ہے عُبادہ(رضی اللہ تعالٰی عنہ ) کا کام نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ کافر کوئی بھی ہوں ان میں با ہَم کتنے بھی اِختلاف ہوں مسلمانوں کے مقابلہ میں وہ سب ایک ہیں،اَلْکُفْرُ مِلَّۃٌ وَّاحِدَۃٌ(یعنی کفر ایک ہی قوم ہے)اس میں بہت شِدّت و تا کید ہے کہ مسلمانوں پر یہودو نصاریٰ اور ہر مخالِفِ دینِ اسلام سے علیٰحِدگی اور جُدا رہنا واجب ہے ۔
کُفّار سے دوستی کی ممانعت پراحادیثِ مبارکہ
عرض:کفّار سے دوستی کی ممانعت پر چنداحادیثِ مبارکہ بھی بیان فرما دیجیے۔
ارشاد:قرآنِ مجید کی طرح احادیثِ مبارکہ میں بھی کُفَّار سے دوستی وہم نشینی کی سخت مُمانَعَت بیان فرمائی گئی ہے،اس بارے میں چند احادیثِ مبارکہ ملاحظہ کیجیے اور کفار سے دوستی کرنے اور ان کی صحبتِ بد سے بچنے کا سامان کیجیے :
٭ حضورِ اکرم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جو جس قوم سے دوستی رکھتا ہے اُس کا حَشر اسی کے ساتھ ہو گا۔ (1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… مُعْجَمِ اَ وْسَط ، ج۵،ص۱۹،حدیث ۶۴۵۰