Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 8:سرکار صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اندازِ تبلیغِ دین
28 - 32
الْیَہُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤی اَوْلِیَآءَ ۘؔ بَعْضُہُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ ؕ وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ مِّنۡکُمْ فَاِنَّہٗ مِنْہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ لَا یَہۡدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۵۱﴾ 
یہود و نصارٰی کو دوست نہ بناؤ وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں  اور تم میں جو کوئی ان سے دوستی رکھے گا تو وہ انہیں میں سے ہے  بے شک اللہ بے انصافوں کو راہ نہیں دیتا ۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللہ الْہَادِی اس آیتِ مبارکہ کے تحت خزائن العرفان میں فرماتے ہیں: اِس آیت میں یہود ونصاریٰ کے سا تھ دوستی و مُوالات یعنی ان کی مدد کرنا،ان سے مدد چاہنا ، ان کے سا تھ محبت کے رَوابِط رکھنا ممنوع فرمایا گیا۔ شانِ نُزول :یہ آیت حضرتِ عُبا دہ بن صا مِت رضی  اللہ تعالٰی عنہ صحابی اور عبدُ اللہ بن ابی سلول کے حق نا زِل ہو ئی جو منا فقین کا سردار تھا۔ حضرتِ عُبا دہ رضی  اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ یَہود میں میرے بَہُت کثیر التعداد دوست ہیں جو بڑی شوکت و قوت وا لے ہیں اب میں ان کی دوستی سے بیزار ہوں اور  اللہ و رسول کے سوا میرے دل میں اور کسی کی مَحَبَّت کی گنجائش نہیں۔ اس پر عبدُ اللہ بن اُبی نے کہا کہ میں تو یہود کی دوستی سے