Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 8:سرکار صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اندازِ تبلیغِ دین
22 - 32
٭	اَخلاق وکِردار: حُسنِ اخلاق کاپیکرہو اورنرمی کا خوگر ہو۔قرآنِ مجید میں ہے: (اُدْعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ) (1)ترجَمۂ کنزالایمان:اپنے رب کی راہ کی طرف بلاؤ پکی تدبیر اور اچھی نصیحت سے اوران سے اس طریقہ پربحث کروجو سب سے بہترہو۔
٭	صَبْرو تَحَمُّل،عَفْوْ ودَرگُزر:راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ  میں کوئی مشکل درپیش ہو جائے،  کسی تلخ  کلام سے واسِطہ پڑجائے تو صبر کرنے والا ہو بلکہ کوئی پتَّھر بھی مار دے تو آقائے مظلوم، سرورِ معصوم، حُسنِ اَخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبرصَلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سُنَّت کی نیَّت کرتے  ہوئے اسے مُعاف کرنے کا جذبہ رکھتاہونہ کہ  انتقامی جذبات سے مغلوب ہو کر طیش میں آجائے کہ
ہے فلاح و کامرانی نرمی و آسانی میں
ہر بنا کام بگڑ جاتا ہے نادانی میں
مبلِّغ جب کسی کو نیکی کی دعوت دے تو نہایت خوش اَخلاقی اور خندہ پیشانی سے پیش آئے۔ حجۃ الاسلام حضرتِ سیِّدُنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ  اللہ  الوَالِی ’’ کیمیائے سعادت‘‘ میں نَقْل کرتے ہیں: کسی نے مامونُ الرشید کوکسی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… پ۱۴،اَلنَّحْل:۱۲۵