ان کے دلکش اور لجاجت بھرے انداز نے میرا دل مُوہ لیا۔ ان کی پُر تاثیر گفتگو سے میں بے حد متأثر ہوا کیونکہ آج تک اس انداز میں اسلام کے متعلق کسی نے نہیں سمجھایا تھا نیز اُن کے حُسنِ اخلاق اور ملنساری کے انداز نے مجھے اپنا گرویدہ بنا لیا۔ مجھے یقین ہو گیا کہ نجات اِسی راستے پر چلنے میں ہے چنانچہ میں نے اسی اسلامی بھائی کے ہاتھ پر ۱۹ جمادی الاخریٰ ۱۴۲۷ ھ بمطابق 12 جولائی 2006 کو کَلِمَۂ طَیِّبَہ” لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ“ پڑھا اور اسلام قبول کر لیا۔
میری خوش نصیبی کہ اسلام قبول کرنے کے کچھ ہی دنوں بعد دعوتِ اسلامی کے مدینۃ الاولیاء ملتان شریف میں ہونے والے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی تیاریاں شروع ہو گئیں ۔ ایک اسلامی بھائی کی انفرادی کوشش کی بدولت مجھے بھی بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی سعادت نصیب ہوئی۔ اجتماع میں لاکھوں لاکھ عمامے اور داڑھی والے اسلامی بھائیوں کو دیکھ کر دل میں اسلام کی عظمت اور دعوتِ اسلامی کی محبت گھر کر گئی۔ ذکر و دعا اور تصورِ مدینہ نے مجھے ایک پُرکیف روحانیت سے سرشار کر دیا۔ اجتماع کے اختتام پرایک ذمہ دار اسلامی بھائی کی انفرادی کوشش کی بدولت راہِ خدا میں سفر کرنے والے عاشقانِ رسول