ممالک سے موصول ہوتی رہتی ہیں۔اس ضمن میں ایک مدنی بہار ملاحظہ کیجیےچنانچہ
صوبہ بلوچستان کے علاقے بیلہ(ضلع لسبیلا)کے رہائش پذیر ایک نو مسلم اسلامی بھائی کی داستان الفاظ کی کمی بیشی کے ساتھ پیشِ خدمت ہے: دینِ اسلام کی پُرنور فضاؤں میں آنے سے قبل میری زندگی کے’’ انمول ہیرے ‘‘ کفر و شرک کی تاریک وادیوں میں ضائع ہو رہے تھے۔ خدائے رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کی شانِ بے نیازی پہ قربان کہ جس نے مجھ نکمّے اور کھوٹے انسان کو اسلام کی دولت عطا فرمائی۔ میرے قبولِ اسلام کا سبب دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک مبلغ اسلامی بھائی بنے۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک دن میری ملاقات اس سبز عمامہ سجائے مبلغِ دعوتِ اسلامی سے ہو گئی۔ وہ اسلامی بھائی مجھے جانتے نہیں تھے ، دورانِ گفتگو جب میں نے اپنا غیرمسلم ہونا ظاہر کیا تو ان کا رنگ ایک دم پھیکا پڑ گیا، ان کے چہرے پر غم کے آثار نمایاں تھے۔ اس اسلامی بھائی نے نہایت درد بھرے انداز میں اسلام کی عظمت، اس کے نمایاں پہلو اور مساوات کے بارے میں بتایا کہ اسلام میں کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں۔ مجھے یوں محسوس ہونے لگا جیسے یہ میرے بہت بڑے خیر خواہ ہیں،