Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 8:سرکار صَلَّی اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا اندازِ تبلیغِ دین
13 - 32
 حضرتِ سیِّدُنا فاروق ِاعظم رضی  اللہ تعالٰی عنہ   نے جب اس کو حق سے زیادہ کھجوریں دیں تو حضرتِ سیِّدُنا زید بن سَعْنَہ رضی  اللہ تعالٰی عنہ  نے کہا : اے عمر (رضی  اللہ تعالٰی عنہ ) میرے حق سے زیادہ کیوں دے رہے ہو ؟ آپ رضی  اللہ تعالٰی عنہ  نے فرمایا: ’’چُونکہ میں نے ٹیڑھی ترچھی(یعنی غضبناک )نظروں سے دیکھ کر تجھے خوفزدہ کر دیا تھا ،اس لیے تاجدارِ مدینہ ،سُرورِ قلب سینہصَلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے تمہاری دلجوئی کے لیے تمہارے حق سے زیادہ کھجوریں دینے کا مجھے حکم دیا ہے۔‘‘ یہ سن کر حضرتِ سیِّدُنا زید بن سَعْنَہ رضی  اللہ تعالٰی عنہ  نے کہا: ’’اے عمر (رضی  اللہ تعالٰی عنہ )کیا تم مجھے پہچانتے ہو کہ میں زَید بن سَعْنَہ ہوں ۔‘‘ حضرتِ سیِّدُناعمرفاروقِ اعظم رضی  اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا :وُہی زید بن سَعْنَہ جو یہودیوں کا بڑا عالم ہے ؟انہوں نے کہا: ’’جی ہاں‘‘یہ سن کر حضرتِ سیِّدُناعمر فاروقِ اعظم رضی  اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا پھر تم نے شَہَنْشاہِ مدینہ صَلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم سے ایسی گفتگو کیوں کی ؟ حضرتِ سیِّدُنازید بن  سَعْنَہ رضی  اللہ تعالٰی عنہ نے جواب دیا کہ اے عمر! (رضی  اللہ تعالٰی عنہ) دراصل بات یہ ہے کہ میں نے تَورات شریف میں جتنی نشانیاں نبیٔ آخِرُ الزّماں صَلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی پڑھی تھیں اُن سب کو میں نے تاجدارِ مدینہصَلَّی  اللہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  میں موجود پایا مگر دو اور