والا‘‘ کہنا تو بَہُت زیادہ عام ہے۔ جو کہ اکثر لوگوں نے زیادہ تر فلموں ڈِراموں سے سیکھا ہے۔ چُونکہ ہر مسلمان کفریات کی پہچان نہیں کر پاتا ،اِس وجہ سے نہ جانے کتنے مسلمان روزانہ یہ غلطیاں کرتے ہوں گے۔ جن لوگوں سے زندَگی میں کبھی ایک بار بھی یہ جُملہ صادِر ہو گیا ہو انھیں چاہیے کہ اس سے توبہ کریں اور نئے سرے سے کلمہ پڑھیں اور اگر شادی شُدہ ہیں تو نئے سرے سے نِکاح بھی کریں۔کاش! مسلمان بُرے خاتمے کا ڈر اپنے اندر پیدا کریں ،فلموں ڈِراموں اور گانے باجوں سے کَنارا کشی اختیار کریں اورضَروریاتِ دین کا علم حاصِل کریں۔آہ! موت ہر وقت سر پر کھڑی ہے ! موت بیماریوں، دھماکوں، ہنگاموں،سیلابوں، طوفانی بارِشوں، زلزلوں، آتَش زدگیوں، نیز تیز رفتار گاڑیوں کے حادِثوں کے ذَرِیعے اچّھے خاصے کڑیل جوانوں کو بھی فوری طور پر اُچک کر لے جاتی ہے اور ساری خَرمستیاں اورفنکاریاں خاک میں مل جاتی ہیں ؎
جل گئے پروانے شَمعیں پانی پانی ہو گئیں
میرا تیرا ذکر ہو کر انجمن میں رہ گیا
ماٰخذ ومراجع
کتاب مطبوعہ کتاب مطبوعہ
الفردوس بمأثور الخطاب دار الکتب العلمیۃ بیروت غنیۃ المتملی سہیل اکیڈمی لاہور
مسند ابی یعلی دار الکتب العلمیۃ بیروت فتاوی عالمگیری دار الفکر بیروت
فتاوی خانیہ پشاور درمختار دار المعرفۃ بیروت
فتح القدیر کوئٹہ رد المحتار دار المعرفۃ بیروت
فتاوی بزازیہ دار الفکر بیروت بہارِ شریعت مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی