Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 5:گونگے بہروں کے بارے میں سُوال جَواب
20 - 22
جواب:	جی نہیں ۔ دُرِّمختار میں ہے: ’’اگر میاںبیوی دونوں گونگے ہوں یا کوئی ایک گونگا ہو تو ان کے درمیانلِعان نہیں ہوسکتا۔‘‘(الدرالمختار،ج۵، ص۱۶۲)
سُوال:	اگر لِعان کے بعد ابھی قاضی نے تفریق (جُدائی)نہیں کی تھی کہ ان میں سے کوئی گونگا ہو گیا تو کیا یہ لِعان دُرُست ہو جائے گا،اور ان کے درمیان جُدائی ہو گی؟
جواب:	نہیں۔ان کے درمیان تفریق (جُدائی)نہیں ہو گی۔فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلامفرماتے ہیں:’’اگر کوئی تفریق سے پہلے اورلِعان کے بعد گونگا ہو گیا تو ان کے درمیان تفریق(جُدائی )نہ ہو گی۔‘‘(الدرالمختار،ج۵، ص۱۶۲)
سُوال:	تو کیا اس صورت میں ان پر حَدّ (زِناکی عورت پر ،تُہمت کی شوہر پر)ہو گی ؟
جواب:	جی نہیں۔ اس صورت میں کسی پر حد نہیں ہو گی ،کیونکہ شُبہ آگیا اورشُبہ کی وجہ سے حُدُود ساقِط (دُور)ہو جاتی ہیں۔ چُنانچِہدُرِّمختار میں ہے: ’’اور نہ کسی کوحَد لگے گی کیونکہ شُبہ کی وجہ سے حد دور ہو جاتی ہے۔‘‘(الدر المختار، ج۵، ص۱۶۲)
قَسَم کا بیان
سُوال:	اگر کسی نے قسم کھائی کہ کسی سے بھی کلام نہیں کروں گا، پھر اُس نے کسی گونگے یابہرے سے کلام کر لیا توکیا اسکی قسم ٹوٹ جائے گی؟
جواب:	جی ہا ں۔فُقَہائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلامفرماتے ہیں: اگر کسی نے قسم کھائی کہ کسی سے کچھ نہیں بولے گا اور گونگے یا بہرے سے کلام کر لیا تو قسم ٹوٹ جائے گی۔(الفتاوی الہندیۃ، ج۲، ص۱۰۰)