لِعان کا بیان
سُوال: لِعان کسے کہتے ہیں؟
جواب: مرد نے اپنی عورت کو زِنا کی تُہمت لگائی اس طرح کہ اگراَجْنَبِیَّہ عورت کو لگاتاتو حدِّقَذف (یعنی تہمتِ زِنا کی حد) اِس پر لگائی جاتی ۔ یعنی عورت عاقِلہ(یعنی عقل والی)، بالِغہ،حُرَّہ(یعنی آزاد)،مُسلِمہ ،عَفِیفہ (یعنی پاک دامن) ہو تو لِعان کیا جائیگا۔ اِس کا طریقہ یہ ہے کہ قاضی کے حُضور پہلے شوہر قَسَم کے ساتھ چار مرتبہ شہادت (گواہی) دے یعنی کہے کہ میں شہادت (گواہی) دیتا ہوں کہ مَیں نے جو اس عورت کو زِنا کی تُہمت لگائی اِس میں خُدا کی قسم مَیں سَچّا ہوں پھر پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اُس پر خدا کی لعنت اگر اس اَمرمیں کہ اس کو زِنا کی تُہمت لگائی جھوٹ بولنے والوں سے ہو اور ہر بار لفظ ــ’’اس ‘‘سے عورت کی طرف اِشارہ کرے پھر عورت چار مرتبہ یہ کہے کہ مَیں شہادت (گواہی)دیتی ہوں خدا کی قسم! اس نے جو مجھے زِنا کی تُہمت لگائی ہے اس بات میں جھوٹا ہے اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ اس پراللّٰہعَزَّوَجَلَّ کا غضب ہواگر یہ اُس بات میں سچا ہو جو مجھے زِنا کی تُہمت لگائی۔ لِعان میں لفظ شہادت(گواہی) شرط ہے اگر یہ کہا کہ خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ سچا ہوںلِعان نہ ہوا۔(بہارشریعت، ج۲، حصہ۸، ص۲۲۰)
سُوال: اگرمیاں،بیوی دونوں یا ان میںسے کوئی ایک گونگا ہو توکیا ان کے درمیان لِعان ہو جائے گا ؟