Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 5:گونگے بہروں کے بارے میں سُوال جَواب
18 - 22
جواب:	اس کا حکم یہ ہے کہ جب تک مردظِہار کا کَفّارہ ادا نہ کر لے اُ س وَقت تک اپنی بیوی سے جِماع کرنا ،شہوت کے ساتھ اسکا بوسہ لینا،یا (شہوت سے )اس کو چُھونا، یا(شہوت کے ساتھ) اس کی شرمگاہ کی طرف نظر کرنا حرام ہے۔اور بغیر شہوت چھونے یا بوسہ لینے میں حرج نہیں ،مگر لب کا بوسہ بغیر شہوت بھی جائز نہیں۔
(الجوہرۃ النیرۃ، الجزء الثانی، ص۸۲، و الدر المختار، ج۵، ص۱۳۰)
سُوال:	ظِہارکا کَفّارہ کیا ہے؟
جواب:	گونگا اورغیر گونگا دونوں ہی کیلئے ظِہارکے کَفّارے کی تین صورَتیں ہیں {۱}غلام یاکنیز آزاد کرے اگر اِس پر قدرت نہ ہو تو {۲}(سنِ ہجری کے) دو ماہ کے لگاتار روزے رکھے اگر اِس پر قدرت نہ ہو تو {۳} ساٹھ مسکینوں کو دو وَقت(یعنی صبح، شام کا) کھانا کھلائے یا 60 مساکین کو صَدَقۂ فطر ادا کرے۔(بہارشریعت، ج۲، حصہ۸، ص۱۰۴،۱۰۹ ملخصاً)
سُوال:	اگربیوی سے جِماع کرنا نہ چاہے یا بیوی ہی فوت ہو جائے تو کیا پھر بھی کفّارہ ادا کرنا ہو گا؟
جواب:	 نہیں۔ فتاوی عالمگیری میں ہے: ظہار کرنے والا جماع کا اِرادہ کرے تو کفّارہ واجِب ہے اور اگر یہ چاہے کہ وطی نہ کرے اور عورت اُس پر حرام ہی رہے تو کفّارہ  واجِب نہیں اور اگر اِرادۂ جماع تھا مگر زَوجہ مر گئی تو واجِب نہ رہا۔(الفتاوی الہندیۃ، ج۱، ص۵۰۹)