Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
99 - 103
اُس بُرائی کو اپنے ہاتھ سے بدل دے اور جواپنے ہاتھ سے بدلنے کی اِستِطاعت (یعنی قوت)نہ رکھے اُسے چاہیے کہ اپنی زَبان سے بدل دے اور جو اپنی زَبان سے بدلنے کی بھی اِستِطاعت نہ رکھے اُسے چاہیے کہ اپنے دل میں بُرا جانے اوریہ ایمان کا سب سے  کمزور دَرجہ ہے۔(1)
فقۂ حنفی کی مشہورومعروف کتاب عالمگیری میں ہے:اَمربالمعروف کی کئی صورتیں ہیں: (1) اگر غالب گمان یہ ہے کہ یہ ان سے کہے گا تو وہ اس کی بات مان لیں گےاور بُری بات سے باز آجائیں گےتو اَمر بالمعروف (نیکی کا حکم کرنا) واجب ہے اس کو باز رہنا جائز نہیں۔(2) اگر گمان غالب یہ ہے کہ وہ طرح طرح کی تہمت باندھیں گے اور گالیاں دیں گے تو (امر بالمعروف کا)  ترک کرنا افضل ہے۔(3)اگر یہ معلوم ہے کہ وہ اسے ماریں گے اور یہ صبر نہ کر سکے گا یا اس کی وجہ سے فتنہ و فساد پیدا ہوگا آپس میں لڑائی ٹھن جائے گی  تو جب بھی(امر بالمعروف)چھوڑنا افضل ہے۔(4)اگرمعلوم ہو کہ وہ اسے ماریں گے تو صبر کرلے گا اور کسی کے آگے شکایت نہیں کرے گا تو ان لوگوں کو برے کام سے منع کرے اور یہ شخص مجاہد ہے۔(5) اگر معلوم ہے کہ وہ مانیں گے نہیں مگر نہ ماریں گے اورنہ گالیاں دیں گے تو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… مُسلِم،کتاب الایمان،باب بیان کون النھی عن المنکر...الخ ، ص۴۴ ،حدیث:۴۹