Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
97 - 103
بہاریں وقتاً فوقتاً سننے کو ملتی ہیں  جنہیں سن کر لوگوں کو نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کا جذبہ ملتا ہے،اَلبتہ یہاں بھی گناہ بیان کرنے میں بہت باریکیاں ہیں جن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔(1)
خُفیہ گناہ کی توبہ بھی خُفیہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اگر بتقاضائے بشریت کسی انسان سے کوئی گناہ سرزد ہوجائےتو اسے چاہیے کہ وہ اپنے گناہ کو پوشیدہ رکھے اور  لوگوں پر اس  کا اِظہار نہ کرے ۔اگرگناہ چھپ کر کیاہے تو اس کی توبہ بھی چھپ کر کرے  تاکہ لوگ اس  پرمطلع نہ ہوں اور اگر گناہ عَلانیہ کیاہے تو اس کی توبہ بھی عَلانیہ کرے تاکہ جن لوگوں کے سامنے یہ گناہ ہوا ہے ان کے سامنےہی اس کا اِزالہ ہوجائے اور ان کے ذہن بھی گناہ کرنے والے کے حوالے سے  صاف ہو جائیں۔حضرتِ سَیِّدُنا معاذ بن جبلرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی کہ یارسولَ اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے وصیت کیجیے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:جہاں تک ممکن ہو اپنے اوپر اللہ عَزَّ وَجَلَّ  کا خوف لازم کر لو،ہرپتھراور درخت کے پاساللہ  عَزَّوَجَلَّ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… مدنی بہارلکھوانے یا سنانے سے دوسروں کی اِصلاح مقصود ہوتی ہے تو اس نیت سے اپنے  ان سابقہ گناہوں کا  اِظہار کرسکتے ہیں جن سے توبہ کی ہے ،مگر ایسے گناہوں(مثلاً بدکاری وغیرہ ) کا تذکرہ نہ کیا جائے جن سے لوگ گھن کھاتے ہوں ۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)