اِظہار کرنا دوسرا گناہ ہے اسی لیے حکم ہے کہ وہ قضا نماز گھر میں چھپ کر ادا کرے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں:اگر کسی امرِ عام کی وجہ سے جماعت بھر کی نماز قضا ہو گئی تو جماعت سے پڑھیں ، یہی افضل ومَسْنُون ہے اور مسجد میں بھی پڑھ سکتے ہیں اور جہر ی نمازوں میں امام پر جہر واجب ہے اگرچہ قضا ہو اور اگر بوجہِ خاص بعض اَشخاص کی نمازجاتی رہی تو گھر میں تنہا پڑھیں کہ معصیت کا اِظہار بھی معصیت ہے، قضا حتَّی الْاِمکان جلد ہو ،تعیینِ وقت کچھ نہیں،ایک وقت میں سب وقتوں کی پڑھ سکتا ہے ۔(1)اَلبتہ بعض صورتوں میں گناہوں کے اِظہار کی بھی اجازت ہے مثلاً کوئی شخص بے نمازی اور طرح طرح کے گناہوں کا عادی تھا اب اسے توبہ کی توفیق نصیب ہوئی اس نے اپنے تما م گناہوں سے توبہ کر لی اور شریعت وسنت کا پابند بن گیا تو ایسے شخص کا لوگوں کے سامنے اپنے ان سابقہ گناہوں کا اس نیت سے تذکرہ کرنا کہ انہیں بھی نیک بننے اور گناہوں سے بچنے کی ترغیب ملے تو یہ جائز ہے جیسا کہ تبلیغِ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہونے والے اسلامی بھائیوں اور اسلامی بہنوں کی مدنی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… فتاویٰ رضویہ، ۸/۱۶۲