Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
95 - 103
حضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ اِرشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: میرے ہر اُمَّتی کو معاف کر دیا جائے گا سِوائے ان لوگوں کے جو گناہوں  کو ظاہر کرتے ہیں اورگناہ  ظاہر  کرنے کی یہ صورت ہے کہ  کوئی مرد رات کو کوئی(گناہ کا) کام کرے، پھر جب  صبح ہوتو اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ نے اس کا پردہ رکھ لیا ہو،پھر وہ کہے (کسی کو بتائے) کہ اے فُلاں! میں نے گزشتہ  رات اِس اِس طرح کیا ہے حالانکہ اس نے اس حال میں رات گزاری تھی کہ اس کے رب عَزَّ وَجَلَّ نے اس کا پردہ رکھا ہوا تھا اورصبح کو وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رکھے ہوئے پردے کو کھول  دے ۔(1)اِس حدیثِ پاک کے تحت شارحِ بخاری، حضرت علّامہ مفتی شریف الحق امجدیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں: گناہ کا اِرتکاب بہرحال گناہ ہے ،مگر اس کا اِعلان کرنا بھی گناہ ہے بلکہ اِرتکابِ گناہ سے  بڑا گناہ ہےیہ گناہ کی اِشاعت بھی ہے اور نڈر ہونا بھی ہے۔(2)
اگرکسی شخص کی نماز قضا ہو جائے تو وہ لوگوں کے سامنے اس کا اِظہار نہ کرے کیونکہ نمازقضا کر دینا ایک گناہ ہے اور لوگوں کے سامنے اس کا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… بخاری،کتاب الادب ، باب ستر المؤمن علی نفسهٖ ،۴/۱۱۸،حدیث:۶۰۶۹
2…… نزھۃالقاری ، ۵/۵۷۸