دِکھاوےکے لیے عمل کر رہا ہے وغیرہ “ کہ بسا اوقات بدگمانی کی ہاتھوں ہاتھ دُنیامیں بھی سزا مل جاتی ہے،چُنانچہ حضرتِ سیِّدُنا مکحول دِمِشْقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِیفرماتے ہیں:جب کسی کو روتا دیکھو تو تم بھی اُس کے ساتھ رونے لگ جاؤ ، بدگمانی مت کرو کہ یہ ریا کاری کر رہا ہے۔ ایک مرتبہ میں نے ایک رونے والے مسلمان کے بارے میں بدگمانی کر لی تھی تو اِس کی سزا میں سال بھر رونے سے محروم رہا۔(1)
اعمالِ بد کو بھی چھپائیے
عرض:کیا نیکیوں کی طرح گناہوں کو بھی چھپانے کا حکم ہے ؟
اِرشاد: جی ہاں! نیکیوں کو چھپانے کی تو عمومی ترغیب ہے لیکن گناہوں کو چھپانے کا بطورِ خاص حکم ہے۔ نیکیوں کو تو اس لیے چھپایا جاتا ہے تا کہ وہ تکبر و ریاکاری وغیرہ کے سبب ضائع نہ ہو جائیں جبکہ گناہوں کو اس لیے چھپایا جاتا ہے کہ وہ پہلے ہی سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ناراضی کا مُوجب(سبب)ہوتے ہیں اور انہیں ظاہر کرنا جرأت اور دِیدہ دلیری ہے لہٰذا ان کا اِظہار ہرگز نہ کیا جائے۔فتاویٰ شامی میں ہے:اِظْهَارُ الْمَعْصِيَةِ مَعْصِيَةٌ یعنی گناہ کا اِظہاربھی گناہ ہے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… تَنبِیهُ الْمُغتَرِّیْن ،ص۱۲۲
2…… رَدُّ الْمُحْتار ،کتاب الصلاة ،مطلب اذا اَسلم المرتد ،۲/۶۵۰