طرح بے پرواہ ہو جانا چاہیے کہ یہ مخلص ہونے کی علامت ہے چُنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا يَحْییٰ بن مُعاذ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ سے سُوال ہوا کہ انسان کب مُخلص ہوتا ہے؟ تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے ارشادفرمایا:جب شِیر خوار بچے کی طرح اُس کی عادت ہو کہ اس کی کوئی تعریف کرے تو اُسے اچھی نہیں لگتی اور مَذمَّت کرے تو اُسے بُری معلوم نہیں ہوتی۔(1)یعنی جس طرح شِیر خوار بچہ اپنی تعریف و مَذمَّت سے بے پرواہ ہوتا ہے اِسی طرح جب انسان اپنی تعریف و مَذمَّت کی پرواہ نہ کرے تو اسے مُخلص کہا جا سکتا ہے۔
دوسروں کی نیکیاں دیکھ کرکیاکرناچاہیے؟
عرض:جس کے سامنے کسی کی نیکی ظاہر ہو اسے کیا کرنا چاہیے؟
اِرشاد: اگر کسی کو نیکی کرتا دیکھیں یا کسی کی نیک نامی ظاہر ہو تو اس کے لیے بارگاہِ الٰہی میں دعاکرنی چاہیےکہ اےاللہ عَزَّوَجَلَّ!اسے اس نیک عمل پر اِستقامت عطافرمااور مجھے بھی اس عملِ خیر کی سعادت نصیب فرما۔بہرحال کسی مسلمان کا نیک عمل ظاہرہو یا نہ ہو بہرصورت اس کے بارے میں حسنِ ظن سے کام لیجیےاور بدگمانی کوقریب بھی نہ آنے دیجیے مثلاً یوں نہ کہیے کہ”یہ تو انتہائی گناہ گار ہے،نیکی کے قریب سے بھی نہیں گزرا،یہ محض
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… تَنبِیهُ الْمُغتَرِّیْن ، ص۲۴ ملخصاً