اسے جانتا ہے لہٰذا اپنے مُنْہ سے اپنی خوبیوں اور نیکیوں کا اظہار کر کے اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتایا جائے کہ قرآنِ کریم میں اس کی مُمانعت بیان فرمائی گئی ہے چُنانچہ پارہ 27 سورۃُالنجم کی آیت نمبر32میں اِرشاد ہوتا ہے: ہُوَ اَعْلَمُ بِکُمْ اِذْ اَنۡشَاَکُمۡ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اِذْ اَنۡتُمْ اَجِنَّۃٌ فِیۡ بُطُوۡنِ اُمَّہٰتِکُمْ ۚ فَلَا تُزَکُّوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ ؕ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی ٪﴿۳۲﴾
ترجمۂ کنز الایمان:وہ تمہیں خوب جانتا ہے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں حمل تھے تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں ۔
اِس آیتِ مُبارَکہ کا شانِ نزول بیان کرتے ہوئے حضرتِ سیِّدُنا علّامہ عبدُ اللہ بن احمد بن محمود نسفیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:یہ آیت ان لوگوں کے حق میں نازل ہوئی جو نیک اَعمال کرتے تھے اور کہتے تھے: ہماری نمازیں ، ہمارے روزے ، ہمارے حج ۔یہ(نیکیوں کے اِظہار کی ممانعت ) اس وقت ہے جبکہ بطورِ فخر و رِیا ہو۔ اگر نعمتِ الٰہی کے اِعتراف کے لیے ہوتو یہ جائز ہے کیونکہ طاعت پر مسرّت عبادت اور اس کا ذِکرکرنا شکر ہے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ خوب جانتاہے جوپرہیزگار ہےلہٰذا لوگوں کے جاننےاورتعریف کرنے کے بجائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا جاننااور جزا دینا ہی کافی جانو۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… تفسیرِنسفی ،پ ۲۷،النجم،تحت الآية:۳۲ ،ص۱۱۸۱-۱۱۸۲