مگر یہ اَلْقابات،خطابات،عہدے ناموں کے ساتھ چپکے رہتے ہیں بلکہ مرنے کے بعد قبر کی تختی پر بھی نمایاں حروف سے لکھ دئیے جاتے ہیں۔ شاید انہی چیزوں کو عزت و وقار کا مِعیار سمجھا جاتا ہےحالانکہ یہ چیزیں خود نُمائی اور تکبر کی طرف لے جاتی ہیں۔ کاش !ہر مسلمان کی نَمُود و ستائش کی خواہش سے جان چھوٹ جائے،اخلاص کی دولت نصیب ہو اور اپنے اَعمال وافعال پر داد وتحسین کے طالب ہونے کے بجائے ایسے بے نشان ہو جائیں کہ بے نشانی و گمنامی ہی ان کا نام ہو جائے ۔
بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا (حدائقِ بخشش)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!انسان کوچاہیے کہ اس کے اندر جو بھی خوبی ہو یا اسے کوئی بھی نیک عمل بجا لانے کی سعادت ملے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کرے کہ اس نے یہ خوبی اور نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے ۔پھر عمل کر لینے کے بعد خوف کی کیفیت طاری ہو کہ نہ جانے اس کا یہ عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول بھی ہے یا نہیں؟ جب عمل کی قبولیت کا علم ہی نہیں تو اس عمل کے بارے میں لوگوں کو بتانے اور دِکھانے کا کیا فائدہ؟ ہاں!اگر وہ نیک عمل بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہے تو اس کی جزا دینے والا پَروردگار عَزَّ وَجَلَّ