درپردہ اپنی فضیلت اور تعریف ہو رہی ہوتی ہے کہ یہ جناب اِس اِس سعادت سے مُشرّف ہو چکے ہیں۔رہی بات بُزرگوں کے حج کی تعداد کی وہ یا تو اُن کے خُدّام کی بیان کردہ ہو گی یا تحدیثِ نعمت کے لیے بزبانِ خود اِرشاد فرمایا ہو گا کیونکہ سراپا اِخلاص بندوں کا مقصد ہرگز نیک نامی یا بزرگی کا سِکّہ جمانانہیں ہوتا۔بَہرحال اگر کوئی اپنے حج وعمرہ کی تعداد بیان کرے یا اپنے کسی نیک عمل کا اِظہارکرے توہمیں اسے رِیاکار کہنے سے بچتے ہوئے حسنِ ظن سے کام لینا چاہیےکہ دلوں کا حال ربِّ ذُوالجلال خوب جانتا ہے۔
اِسی طرح اگرکوئی طالبِ علم حفظِ قرآن یا عالم کورس کی سعادت حاصل کر لیتاہے تو اپنے نام کے ساتھ حافِظ وقاری اور علّامہ لکھنا اور بولنا شروع کر دیتا ہےاور حد تو یہ ہے کہ بعض دَرجۂ حفظ یا قِراءت یا عالم کورس میں داخلہ لیتے ہی اپنے آپ کو حافِظ،قاری اور علّامہ کہنا اور لکھنا شروع کر دیتے ہیں۔اگر کوئی نام پوچھے گا تو جھٹ مُنْہ سے ”حافِظ فُلاں“، ”قاری فُلاں“نِکل جاتا ہے۔
یونہی دُنیوی عہدے اور منصب والے افراد مثلاًپروفیسر ، ڈاکٹر ، کیپٹن ، ایم پی اے اور ایم این اے وغیرہ بھی اپنے عہدے اور منصب کو اپنے نام کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ اگر اس عہدے یا ذِمَّہ داری سے سبکدوش بھی ہو جائیں