Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
86 - 103
مخلوق کو ان کے عمل سے رغبت ملے۔اگر عام لوگ   تحدیثِ نعمت یا ترغیب کی نیت سے اپنے عمل کو ظاہر کرنے جائیں گے تو مخلوق کا فائدہ ہونا تو دَرْکنار کہیں  خود نُمائی اور تکبر وغیرہ کا شکار ہوکر اپنی نیکیوں پر  ہی پانی نہ پھیر دیں۔
نفسِ بدکار نے دل پر یہ قیامت توڑی	
عملِ نیک کیا بھی تو چھپانے نہ دیا	(سامانِ بخشش)
نیکیوں اور خوبیوں کے اِظہار كی چند مثالیں 
عرض:  عام طورپراپنی نیکیوں اور  خوبیوں کا اِظہار کس طرح کیا جاتا ہے؟ 
اِرشاد: آج کل ہمارے مُعاشرے میں خودسِتائی ،تکبر اور رِیاکاری وغیرہ  کے باطنی اَمْراض عام ہوتے چلے جارہے ہیں۔ اکثر لوگوں  کو اپنی تعریف اور خوبیاں بیان کرنے کا شوق ہوتا ہے ،جب تک اپنے نام کے ساتھ کوئی شناخت ظاہر نہ کریں تو اس وقت تک انہیں  چین نہیں آتا ۔لوگ  بِلاوجہ اپنے فضائل بیان کرتے نہیں تھکتے،مثلاًاگر کوئی حج کی سعادت سے مشرّف ہوچکاہے تو حج کرتے ہی بڑے فخر سےاپنے  نام کے ساتھ حاجی کا ٹائٹل لگا دیتا ہے۔ بَبانگِ دُہُل اپنے حج وعمرہ  کی تعداد بیان کی جاتی ہے  کہ ”میں ہر سال حج کی سعادت پاتا ہوں،اب تک اتنے حج وعمرہ کی سعادت مل چکی ہے وغیرہ“سفرِ حج اور سفرِ مدینہ کے واقعات بیان کیے جاتے ہیں۔ان سب باتوں میں