Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
84 - 103
تہمت اور مَلامَت نہیں ہوتی۔ اگر اس کے اِظہار سے بھی  مقصود یہ ہو کہ لوگ اس کی اِقتدا کریں تو  اس کا ظاہر کرنا بھی اچھا ہے۔(1) 
بزرگوں کے سامنے نیکیوں کا اِظہار
عرض:کن لوگوں کے سامنے اپنی نیکیوں کے اِظہار کی اجازت ہے اور کن کے سامنے نہیں ؟
اِرشاد: عام  حالات میں عوام الناس کے سامنے اپنے پوشیدہ  نیک اعمال کے  اِظہار کی حاجت نہیں کہ اس سے رِیاکاری،خودپسندی اور حُبِّ جاہ وغیرہ   آفات  میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے ۔رہی خواص کی بات تو ان کے سامنے اچھی اچھی نیتوں کے ساتھ اپنی نیکیوں کا اِظہار کیا جا سکتا ہے، مثلاً غیرِ عالم کا عالمِ دین، مُرید کا اپنے پیر  اور  شاگرد  کا اپنے استاد کے سامنےاس نیت سے اپنے پوشیدہ اَعمال  بیان کرنا کہ اگر ان میں کوئی غَلَطی یا کوتاہی ہوتو یہ اِصلاح فرما دیں گے،نیز  میرے ان اَعمال پر خوش ہو کر بارگاہِ الٰہی میں اِستقامت  اور ان  کی مقبولیت کی دُعا فرما دیں گےیا میراان کے سامنے کسی نیک عمل مثلاً  مَدَنی اِنعامات پر عمل اور مَدَنی قافلے میں سفر وغیرہ  کا ذکر کرنا دوسروں کی ترغیب کا سامان ہوگا تویہ جائزہےچُنانچہ مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الامَّت حضرتِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… روح البیان ،پ۳۰،الماعون ، تحت الآية:۶،۱۰/۵۲۳