Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
83 - 103
ہے جیسا کہ مُفَسِّرِ شَہِیر،حکیم الامَّت حضرتِ مفتی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان  فرماتے  ہیں:اپنی عبادات لوگوں کو دِکھانا تعلیم کے لیے یہ رِیا نہیں بلکہ عملی تبلیغ وتعلیم ہے،اس پر ثواب ہے۔مَشائِخ فرماتے ہیں:صِدِّیقین کی رِیا مُریدین کے اِخلاص سے بہتر ہے ،اس کا یہی مطلب ہے۔(1)
لوگوں کو بدگمانی سے بچانے کے لیے عمل کااِظہار
اپنی ذات سے تہمت دور کرنے اور لوگوں کو بدگمانی سے بچانے کے لیے بھی اپنے عمل کو ظاہر کرنے کی اجازت ہےجیسا کہ تفسیر روح البیان میں  ہے کہ اگر نیک عمل فرائض میں  سے ہوتو فرائض کے  حق میں سے  یہ ہے کہ اس کا اِعلان اورتشہیرکی جائے۔ رسولِ کریمعَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰو ۃِ  وَالتَّسْلِیْم کا فرمانِ عظیم ہے:اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے فرائض کو چھپانا نہیں چاہیے۔(2)  کیونکہ یہ فرائض اِعلامِ اسلام(اسلام کا اظہار)اور شَعائرِ دین(دین  کی  نشانیوں)میں سے ہیں،اس لیے ان کا ترک کرنے والا مَذمّت و مَلامَت کا مستحق ہوتا ہے لہٰذاان کے اِظہار کے ذریعےتہمت کا اِزالہ ضروری ہے۔ اگر نفلی طاعت ہے تو اس کا حق یہ ہے کہ اسے مخفی رکھا جائے کیونکہ اس کے ترک پر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… مِرْآةُ المناجیح  ، ۷/۱۲۷
2…… النھایه ، باب الغین  مع المیم،۳/۳۴۸