Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
82 - 103
جولوگوں کا پیشوا ہو،لوگ اس سے عقیدت ومحبت رکھتے ہوں اور نیک اعمال میں  اس کی پیروی کرتے ہوں تو ایسے شخص کا لوگوں کی ترغیب کی نیت سے اپنے عمل کوظاہر کرنا نہ صرف جائز بلکہ افضل ہےچُنانچہ حضرتِ سَیِّدُنا عبدُ اللّٰہ اِبنِ عُمررَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشاد فرمایا:پوشیدہ عبادت عَلانیہ عبادت سے افضل ہے اور جس کی لوگ پیروی کرتے ہوں اس  کی عَلانیہ عبادت پوشیدہ عبادت سے افضل ہے۔(1)
تحدیثِ نعمت  کے طور پر علم وعمل کا اِظہار
اِسی طرح تحدیثِ نعمت(نعمت کا چرچا  کرنے) کے طور پر بھی اپنے علم و عمل کو ظاہر کرنے کی اجازت ہے جیسا کہ فتاویٰ عالمگیری میں ہے : عالم کے لیے کوئی  حرج نہیں کہ وہ تحدیثِ نعمتِ الٰہی کے طور پر اپنا عالم ہونا ظاہر کرے تاکہ لوگ اس سے اِسْتِفادہ کریں ۔(2) 
دوسروں کو سکھانے کی نیت سے نیک عمل کا اِظہار
ایسے ہی دوسروں کی تعلیم کے لیےبھی اپنے  نیک عمل کا اِظہار کرنا جائز
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… شعبُ الایمان ،باب  فی السرور  بالحسنة  والاغتمام بالسیئة ،۵/۷۶ ۳ ،حدیث:۷۰۱۲
2…… فتاویٰ  ھندیة ،کتاب الشھادات ،الباب الثلاثون  فی  المتفرقات ،۵/۳۷۷