Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
81 - 103
عبادت میں مصروف رہتا اس لیے اے میرے ربعَزَّ وَجَلَّ! میرا عُذر قبول فرما لے۔آقا اسے دیکھتا رہا یہاں تک کہ صبح ہوگئی، روشن قِندیل واپس چلی گئی اور مکان کی چھت مل گئی۔یہ سارا منظر دیکھ کر آقا واپس آ گیا اور سب ماجرا اپنی زوجہ کو سنایا ۔ دوسری رات وہ اپنی زوجہ  کو بھی ساتھ لے کر غلام کے دروازے پر آیا تو دیکھا کہ غلام سجدے میں پڑا ہے اور قِندیل اس کے سر پر ہے، وہ دونوں کھڑے ہو کر یہ سب منظر دیکھتے اور رو تے رہے۔ آخرِکار  صبح ہوئی تو انہوں نے غلام کو بلا کر کہا:تم اللہ  عَزَّ وَجَلَّ   کی خاطر آزاد ہو تاکہ تم جو عُذر پیش کر رہے تھےوہ دور ہوجائے اور تم یکسوئی کے ساتھ اللہتعالیٰ کی عبادت کر سکو۔ غلام نے یہ سن کر کہا:اے صاحبِ راز ! راز تو کھل گیا،اس کے بعد میں  زندگی نہیں چاہتا۔ پس اسی وقت وہ غلام گرا اور اس کی روح قالب ِ خاکی(بدن)سے آزاد ہو گئی۔ (1) 
نیکیوں کے اِظہار کی جائز صورتیں
عرض: نیکیوں کو مُطلقاً چھپانے کا حکم ہے یاان کے اِظہار کی بھی کوئی  صورت ہے؟ 
اِرشاد:نیکیوں کو حتَّی الْاِمکان پوشیدہ رکھنے ہی میں عافیت ہے  مگر  بعض صورتوں میں اچھی نیتوں کے ساتھ ان کے  اِظہار کی بھی اجازت ہے ،مثلاً ایسا شخص
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… مکاشفةُ القلوب،الباب الحادی عشر...الخ ، ص۳۹   ملخصاً