Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
80 - 103
بارگاہ میں رات والی کرامت کا ذکر کیا گیا تو وہ بے چین ہوگئے کہ لوگوں پران کی عبادت کیوں ظاہر ہوئی ؟ بے ساختہ اپنے ہاتھ  بارگاہِ الٰہی میں اٹھا دیئے اور عَرْض کی:”اے میرے رازدار پروردگار!میرا راز تو فاش ہوچکا، اب میں اس شُہرت کے بعد زندہ نہیں رہنا چاہتا۔‘‘یہ کہتے ہوئے اپنا سر سجدے میں رکھ دیا۔ لوگوں نے ہِلاجُلا کر دیکھا تو ان کی روح قَفَسِ عُنْصَری (بدن) سے پرواز کر چکی تھی ۔(1)
راز فاش ہونے پر موت کی آرزو
مکاشفۃ القلوب میں نقل  ہے کہ ایک شخص نے ایک غلام خریدا ۔وہ غلام دن کو اپنے آقا کی خدمت کرتا اوررات کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ۔   کچھ مدّت کے بعد ایک رات  اس کا آقا گھر میں چلتے چلتے غلام کے کمرے میں پہنچ گیا، کیا دیکھتا ہے کہ کمرہ روشن ہے ،غلام اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہے ، اس کے سر پر آسمان وزمین کے درمیان ایک روشن قِندیل  آویزاں(لٹکی ہوئی) ہے اوروہ بارگاہِ الٰہی  میں عاجزی و انکساری کے ساتھ مُناجات کررہا ہے کہ اے اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ! تو نے مجھ پر میرے آقا کا حق اور دن کو اس کی خدمت لازم کردی ہے ، اگر یہ مصروفیت نہ ہوتی تو میں دن رات صرف تیری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… روضُ الریاحین ،الحکایة الخمسون  بعد الثلاث  مئة ،ص ۲۸۸