میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بدقسمتی سے آج ہمارا اپنی نیکیاں چھپانے کا ذہن ہی نہیں۔ خود نُمائی اور حُبِّ جاہ کی آفت اس قدر عام ہو چکی ہے کہ جب تک کسی کو اپنی نیکیاں بتا کر خوب داد وتحسین وصول نہ کر لیں تشفّی (تسلّی) ہی نہیں ہوتی اور اگر خوش قسمتی سے کوئی عمل پوشیدہ طور پرکربھی لیں اور وہ کسی پر ظاہر ہو جائے تو اپنے کارنامے پر خوشی اور فخر سے پھولے نہیں سماتے جبکہ بعض بُزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن ایسے بھی گزرے ہیں جو بارگاہِ الٰہی میں اپنی اوراپنے اعمال کے پوشیدہ رہنے کی دُعائیں کیاکرتے تھے اور ریاکاری کی تباہ کاریوں سے بچنے کے خوف کا یہ عالَم تھا کہ اگر ان کی عبادت لوگوں پر ظاہر ہوجاتی تو وہ دنیا میں رہنا ہی گوارا نہ کرتے چُنانچِہ
شُہرت کے بعدمیں زندہ رہنا نہیں چاہتا
حضرتِ سَیِّدُنا علّامہ یافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی”روض الریاحین“میں نقل کرتے ہیں:ایک بُزرگرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ یہ دُعا مانگا کرتے تھے کہ” یااللہ عَزَّ وَجَلَّ!مجھے اپنے فضل وکرم سے خوب نواز مگر مجھے لوگوں میں غیر معروف رکھ کہ لوگ مجھے نہ پہچانیں۔“ایک رات وہ نماز میں گریہ وزاری فرما رہے تھے توکچھ لوگوں نے دیکھا کہ ان کے سر پر ایک نورانی قندیل روشن ہے جس کی روشنی آنکھوں کو خِیرہ (حیران)کر رہی ہے۔ صبح ان کی