Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
78 - 103
کرے گا تو اس کے لیے بھی اس عمل کرنے والے کے برابر اجرہوگا، یہی معنیٰ آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَام کے اس فرمانِ عالیشان کا ہے :جوکوئی اچھا طریقہ ایجاد کرےتو اس کے لیے اس کا اَجر ہے اور اس پرعمل کرنے والوں کا بھی اجر ہے۔(1)اورظاہر ہے  کہ اس کا خوش ہونا طبعی طور پر ہے جو کہ شريعت کے مطابق بھی ہے  یعنی  اسے یہ بات پسند ہے کہ کوئی اسے اچھی حالت میں دیکھے  اور یہ بات  ناپسند  ہے کہ کوئی  اسےبری حالت میں دیکھے، قطع نظر اس کے کہ اس کایہ عمل ریاکاری اور عجب پسندی کے لیے ہوتو اس كی یہ حالت  سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمانِ عالیشان کے  موافق ہے کہ جسے  اس کی نیکی خوش کرے اور بُرائی رنجیدہ كرے تو وہ مومن ہے۔(2)اللہ عَزَّوَجَلَّ نے فرمایا:﴿ قُلْ بِفَضْلِ اللہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوۡا ؕ ہُوَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوۡنَ ﴿۵۸﴾﴾(پ ۱۱، یونس:۵۸) ترجمۂ کنزالایمان:”تم فرماؤ الله ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہئے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔ “پس مومن اَعمال کی توفیق ملنے پر اس طرح خوش ہوتا ہے جیسے غیر مومن کثرتِ مال پر خوش ہوتاہے ۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… النھایة ،باب الباء مع الدال ،۱/۱۰۶
2…… مُعجمِ اوسط ، من اسمہ احمد ،۱/۴۵۱ ، حدیث:۱۶۵۹
3…… مرقاةُ  المفاتيح،کتاب الرقاق،باب الریاء والسمعة،الفصل الثانی،۹ /۱۸۲،تحت الحدیث:۵۳۲۲