کسی نے اس کو عمل کرتے دیکھ لیا جس پر اسے دل میں خوشی محسوس ہوئی تو اس میں حرج نہیں بلکہ ایسے شخص کے لیے پوشیدہ عبادت اور عَلانیہ دونوں کا ثواب ہےچُنانچہ حدیثِ پاک میں ہےحضرتِ سَیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بارگاہِ رسالت میں عَرض کی: یارسولَ اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں اپنے مکان کے اندر نماز کی جگہ میں تھا، ایک شخص آ گیا اور یہ بات مجھے پسند آئی کہ اس نے مجھے اس حال میں دیکھا۔ اِرشاد فرمایا: اے ابوہریرہ(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)!اللهتعالیٰ تم پر رحم فرمائے،تمہارے لیے دو ثواب ہیں، پوشیدہ عبادت کرنے کا اور عَلانیہ کا ۔(1)
اِس حديثِ پاک کے تحت حضرتِ سیِّدُنا علّامہ علی قاریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْبَارِی فرماتے ہیں:اے ابوہریرہ(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ)!اللهتعالیٰ تم پر رحم فرمائے، تمہارے ليے دو اَجر ہیں :ایک پوشیدہ عمل کا تمہارے اخلاص کی بدولت اور دوسرا عَلانیہ عمل کا تمہاری اس عمل ميں پیروی کیے جانے کی وجہ سے یا تمہاری عبادت پر خوشی اور اس کے تم سے ظاہر ہونے کی وجہ سے۔یہ بھی کہاگیاہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ عمل کےظاہر ہوجانے پر اس اُمّید سے خوش ہونا کہ جس نے اسے یہ عمل کرتے دیکھا ہے وہ بھی اسی کی مِثل عمل
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… مشكاة ُالمصابیح ،کتاب الرقاق ، باب الریاء و السمعة ،۲/ ۲۶۸، حديث:۵۳۲۲