کا اِس نیت سےاپنی نیک نامی کا اِظہار کر کے عہدہ ومنصب طلب کرنا کہ وہ اَحکامِ الٰہیہ قائم کر سکے تو ایسے شخص کے لیے منصب طلب کرنا نہ صرف جائز بلکہ کئی صورتوں میں واجِب ہے جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا یوسفعَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قحطِ شدید میں مخلوق کو راحت وآسائش پہنچانے کی غرض سے منصب طلب فرمایا۔ حضرتِ سَیِّدُنا یوسفعَلٰی نَبِیِّنَا وَ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے مُبارَک قَول کی حِکایت کرتے ہوئے پارہ 13سورۂ یوسف کی آیت نمبر 55میں اِرشاد ہوتا ہے :
قَالَ اجْعَلْنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرْضِ ۚ اِنِّیۡ حَفِیۡظٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۵﴾
ترجمۂ کنز الایمان:یوسف نے کہا مجھے زمین کے خزانوں پر کر دے بیشک میں حفاظت والا علم والا ہوں۔
اِس آیتِ کریمہ کے تحت صدرُ الافاضل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں:”احادیث میں طلبِ اِمارت(سرداری/ حکومت)کی مُمانعت آئی ہے، اس کے یہ معنیٰ ہیں کہ جب مُلک میں اَہل موجود ہوں اور اقامتِ اَحکامِ الٰہی کسی ایک شخص کے ساتھ خاص نہ ہو اس وقت اِمارت طلب کرنا مکروہ ہے لیکن جب ایک ہی شخص اَہل ہو تو اس کو اَحکامِ الٰہیہ کی اِقامت کے لیے اِمارت طلب کرنا جائز بلکہ