ان میں سے کوئی ایک راستے میں اَذِیّت دینے والی چیز دیکھتا تو اس کو صِرف اس لیے نہ ہٹاتا کہ کہیں شُہرت نہ ہو جائے۔(1)
خواہ دولت نہ دے کوئی ثَروَت نہ دے
چاہے عزّت نہ دے کوئی شُہرت نہ دے
تختِ شاہی نہ دے اور حکومت نہ دے
تُجھ سے عطارؔ تیرا طلب گار ہے (وسائلِ بخشش)
بزرگانِ دِین کی شہرت کی وجہ
عرض: ہمارے بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن جب سراپا اخلاص تھے ،شہرت سے بچتے تھے تو پھر ان کے نیک اَعمال اور ان کی وِلایت کی شہرت کیسے ہوئی ؟
اِرشاد:بزرگانِ دِینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیے عمل کرتے،اپنے اَعمال کو لوگوں سے پوشیدہ رکھتے اور شہرت سے بچتے تھے۔ رہی بات ان کی شہرت کی تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ مخلصین کے اَعمال کو لوگوں پر خود ظاہر فرما دیتا ہے اور ان کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈال دی جاتی ہے اور ان کی مقبولیت کو پھیلادیاجاتاہے۔ حدیثِ پاک میں ہے:اگر تم میں سے کوئی شخص ایسی سخت چٹان میں کوئی عمل کرے جس کا نہ تو کوئی دروازہ ہو اور نہ ہی روشندان، تب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… احیاءُ العلوم،کتاب ذم الجاہ والریاء ،الشطر الثانی من الکتاب...الخ، بیان ذم الریاء،۳/ ۳۶۴