تیرے سامنے سے ایک شخص کا گزر ہوا اور تو نے اس کو سُنانے کے لیے یہ حرف زور سے پڑھا تھا اس لیے اس کا ثواب جا تا رہا۔(1)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اپنے اَعمال لوگوں کو دِکھانے ، سنانے اور شہرت پانے کی خواہش دل سے یکسر نکال دیجیے کہ اس خصلتِ بد کی وجہ سے نیک اَعمال میں ثواب سے محرومی کے ساتھ ساتھ دین وایمان کی تباہی اور دو جہاں میں ذِلّت و رُسوائی کا بھی اندیشہ ہے۔حضرتِ سَیِّدُنا بشرعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ الْاَکْبَر فرماتے ہیں:میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو شہرت چاہتا ہو اور اس کا دین تباہ اور وہ خود ذَلیل و رُسوا نہ ہوا ہو۔(2)یہی وجہ ہے کہ ہمارے بُزرگانِ دینرَحِمَہُمُ اللّٰہُ الْمُبِیْن اپنی شہرت کے خوف سے بَہُت سی حِکمت بھری،نصیحت آموز اورنفع بخش باتیں بھی اپنی زبان پر نہ لاتے تھے جیسا کہ حضرتِ سَیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:میں نے کچھ لوگوں کی صحبت اختیارکی اور ان کے دلوں میں حکمت کی ایسی باتیں گزرتی تھیں کہ اگر وہ انہیں زبان پر لاتے تو ان کو اور ان کے ساتھیوں کو نفع دیتیں مگر انہوں نے شُہرت کے خوف سے ان باتوں کو ظاہر نہیں کیا اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… روح البیان ،پ۱۰،اَلانفال ،تحت الآیة:۴۷، ۳/۳۵۵
2…… احیاءُ العلوم،کتاب ذم الجاہ والریاء ،الشطر الاوّل فی حب الجاہ و الشھرة ،بیان ذم الشھرة وانتشار الصیت ،۳ /۳۴۰