فقط اس کی رضا کے لیے کیے جائیں۔ محض لوگوں کو دِکھانے اور اپنی واہ وا کروانے کی نیّت سے پہاڑوں کے برابر بھی کیے جانے والے اَعمال بارگاہِ الٰہی میں قبول نہیں ہوتے جیسا کہ منقول ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک عابِد(یعنی عبادت کرنے والے)نے ایک غار میں چالیس برس تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کی۔ فِرِشتے اُس کے اَعمال لے کر آسمانوں پر جاتے اور وہ قَبول نہ کیے جاتے۔ فِرِشتوں نے عرض کی: ’’اے ہمارے پَروَردگار !تیری عزّت کی قسم ! ہم نے تیری طرف صحیح (اَعمال) اُٹھائے ہیں۔‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:اے میرے فِرِشتو ! تم نے سچ کہا، مگر (عبادت میں اُس کی نیّت بُری ہوتی ہے)وہ چاہتا ہے کہ اِس کا مقام(سب کو) معلوم ہوجائے(یعنی رِیا وشہرت کا طلبگار ہے)۔ (1)
ایک حرف کا ثواب جاتا رہا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ نیک اَعمال کے ذریعے اپنی شہرت طلب کرنے والے کے چالیس سال کے نیک اَعمال اَ کارَت ہو گئے۔ لرز جائیے اور خدائے علیم وخبیرعَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں سچی توبہ کرتے ہوئے اپنے اَعمال کو زیورِ اِخلاص سے مُزین کرنے کی کوشش کیجیے ۔یاد رکھیے! اگر کسی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے لیے عمل شروع کیا پھر دَورانِ عمل اگر اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… قوتُ القلوب ،کتاب الزکوة ،الباب السابع والثلاثون ،۲/۳۰۴