کے لیے ہلاکت ہے، ذِمَّہ داروں کے لیے ہلاکت ہے، قيامت کے دن کچھ قوميں ضَرور یہ تمنا کريں گی کہ ان کی پيشانياں ثُرَيَّا ستارے سے مُعَلَّق ہوتيں اور وہ زمين و آسمان کے درميان لٹک رہے ہوتے اور انہيں کسی کام کا والی نہ بنايا جاتا۔(1)
اِسی طرح ’’حُبِّ جاہ‘‘کی خاطر نیکیوں کا اِظہار کرنے والوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہے کہ سرورِ کائنات، شاہِ موجوداتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشاد فرمایا :اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت کو بندوں کی طرف سے کی جانے والی تعریف کی محبت کے ساتھ ملانے سے بچتے رہو۔(خبردار! کہیں) تمہارے اَعمال برباد نہ ہو جائیں۔(2)
نیک اَعمال کو اَ کارَت کرنے کے لیے شیطان مختلف حَربوں سے کام لیتا ہے۔کبھی نیک کاموں کے ذریعے انسان کو حُبِّ جاہ اور شُہرت کا وسوسہ دِلاتا ہے تو کبھی نَمُود و نُمائش اورعہدہ ومنصب کے حصول کا خواب دکھاتا ہے تو یوں نادان انسان شیطان کے وَساوِس وفریب میں آکر اپنی عبادات کو ضائِع کر بیٹھتا ہے۔یاد رکھیے!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں وہی اَعمال مقبول ہوتے ہیں جو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… مستدرک حاکم،کتاب الاحکام، قاضیان فی النار...الخ ،۵/۱۲۳،حدیث:۷۰۹۹
2…… فِرْدوسُ الْاخبار ،باب الالف ،فصل فی التحریر والوعید ،۱/۲۲۳،حدیث:۱۵۶۷