Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
67 - 103
کی جائے ۔ اگرکسی نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا کے علاوہ  لوگوں کو دِکھانے اور اپنی تعریف کروانے کی غَرَض سے قربانی کی تو ایسی قربانی بارگاہِ الٰہی میں مقبول نہیں۔قربانی کرنے والے صرف نیت کے اِخلاص اور دلوں کی  پرہیزگاری  کی رعایت سے ہیاللہ  عَزَّ وَجَلَّ کو راضی کر سکتے ہیں کیونکہ بارگاہِ الٰہی میں قربانی کے جانوروں کا  گوشت پہنچتا ہے نہ ان کا خون بلکہ تقویٰ و پرہیزگاری ہی ایسی چیزہے جوبارگاہِ الٰہی تک باریاب ہوتی ہے جیسا کہ پارہ17سورۃُ الحج  کی آیت نمبر 37 میں اِرشاد ہوتا ہے: لَنۡ یَّنَالَ اللہَ لُحُوۡمُہَا وَلَا دِمَآؤُہَا وَلٰکِنۡ یَّنَالُہُ التَّقْوٰی مِنۡکُمْ ؕ
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ کو ہرگز  نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں نہ ان کے خون ہاں تمہاری پرہیزگاری اس تک باریاب ہوتی ہے ۔
لہٰذا ریاکاری سے بچتے ہوئے خلوصِ نیت کے ساتھ قربانی کا  اِہتمام کرنا چاہیے۔بلا حاجت دوسروں کو  اپنے جانور کی قیمت بتانے ، خوبیاں سنانے، نمائش کے طور پرگلیوں میں گھمانے اورلوگوں سے اس کی تعریف سُن کر خوشی سے پھولے نہ سمانے  سے بچنے کی ہر دم  کوشش کرنی چاہیے اور اگر ریاکاری یا حُبِّ جاہ کا اندیشہ محسوس ہو تو اس کے لیے قربانی کے جانور کو چوراہے میں باندھنے کے بجائے مویشیوں کے باڑے میں  یا  گھر  کےکسی  کونے