اسلامی بہنوں کے لیے خوشبو لگانے کا مسئلہ
اسلامی بہنیں بھی اپنے گھر کی چار دیواری میں جہاں فقط شوہر یا محارِم ہوں وہاں ہر طرح کی خوشبو استِعمال کر سکتی ہیں۔ ہاں! یہ احتیاط لازمی ہے کہ دیوَر، جَیٹھ اور دیگر غیرمَحارِم تک خوشبو نہ پہنچے۔ اگر گھر سے باہر جائیں تو مہک والی خوشبو ہرگز نہ لگائیں جو غیر مَردوں کی توجُّہ کا باعِث بنے کہ عورت کے لیے ایسی خوشبو لگانے پر وعیدِ شدید ہے چُنانچہ حضرتِ سَيِّدُنا ابومُوسیٰ اَشْعَریرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روايت ہے:جب کوئی عورت خُوشبو لگا کر لوگوں میں نکلتی ہے تاکہ اس کی خُوشبو پائی جائے تو یہ عورت زانِیہ ہے ۔(1)
قربانی کرنےمیں ریاکاری سے کیسے بچیں؟
عرض:قربانی کرنے میں کیا نیت ہونی چاہیے ؟ نیزقربانی کرتے وقت ریاکاری سے کیسے بچا جائے؟
اِرشاد:مَخصُوص جانور کو مَخصُوص دن میں بہ نیتِ تقرّب(یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے ) ذبح کرنا قربانی ہے۔(2) قربانی کی اس تعریف سے ہی واضح ہے کہ قربانی محضاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضا حاصل کرنے کی نیت سے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… نسائی،کتاب الزینة ،باب ما یکرہ للنساء من الطیب ،ص۸۱۸ ، حدیث:۵۱۳۶
2…… بہارِ شریعت،۳/۳۲۷ ،حصّہ:۱۵