خُوشبو سے فَرحَت (یعنی خوشی وسُرور)پہنچاؤں گا، خود سے بدبُو دُور کر کے مسلمانوں کو غیبت سے بچاؤں گا، نَماز کے لیے زینت حاصِل کروں گا، خوشبو سُونگھ کر دُرُود شریف پڑھوں گا، خوشبو استِعمال کرنے کے بعد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر بجا لاتے ہوئے اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہوں گا وغیرہ وغیرہ۔
دُنیا پسند کرتی ہے عطرِ گُلاب کو
لیکن مجھے نبی کا پسینہ پسند ہے
مُردار سے بھی زیادہ بدبودار خوشبو
اگر کسی بُری نیت مثلاً لوگوں کے سامنے اِترانے یا غیر عورتوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی نیت سے خوشبو لگائی تو ایساشخص گنہگار ہوگا اور وہ خوشبو بھی بروزِ قِیامَت مُردار سے زِیادہ بدبودار ہو گی چُنانچِہ مکّی مَدَنی سلطان ،سرورِ ذیشانصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے: جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رضاکے لیے خوشبو لگائی تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کی مہک کستوری سے بھی زیادہ خوشبو دار ہو گی اور جس نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سِوا کسی اور کے لیے خوشبو لگائی تو بروزِ قیامت وہ اس حال میں آئے گا کہ اس کی بُو مُردا رسے بھی زیادہ بد بو دار ہو گی۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… مصنّف عبد الرزاق ،کتاب الصیام ،باب المرأة تصلی...الخ ،۴/ ۲۴۷،حدیث:۷۹۶۳