مباح ہے۔اس قسم کے کپڑے روز نہ پہنے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اِترانے لگے اور غریبوں کو جن کے پاس ایسے کپڑے نہیں ہیں نظرِ حقارت سے دیکھے لہٰذا اس سے بچنا ہی چاہیے اور تکبر کے طور پر جو لباس ہو وہ ممنوع ہے، تکبر ہے یا نہیں اس کی شناخت یوں کرے کہ ان کپڑوں کے پہننے سے پہلے اپنی جو حالت پاتا تھا اگر پہننے کے بعد بھی وہی حالت ہے تو معلوم ہوا کہ ان کپڑوں سے تکبر پیدا نہیں ہوا۔ اگر وہ حالت اب باقی نہیں رہی تو تکبر آگیا لہٰذا ایسے کپڑے سے بچے کہ تکبر بہت بُری صفت ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہواکہ اچھا اور عمدہ لباس پہننے میں کوئی حرج نہیں جبکہ کوئی بُری نیت نہ ہو لہٰذا جب بھی اچھا اور عمدہ لباس پہنیں تو بُری نیت سے بچتے ہوئے کوئی نہ کوئی اچھی نیت ضرور کرلیجیے تاکہ یہ لباس پہننا بھی کارِ ثواب بن جائے ،مثلاً یہ نیت کر لیجیےکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو یہ پسند ہے کہ اس کی نعمت کا اثربندے پر ظاہر ہو اس لیے میں اچھا اور عمدہ لباس پہن رہا ہوں ،ایسے ہی جُمعہ،عیدین یا کسی اور خاص دینی موقع پر پہنتے وقت ان دنوں کی عظمت اور شَعائرِ اسلام کی تعظیم کی نیت کر لیجیے۔
لباس سنَّتوں سے مُزین رہے اور
عِمامہ ہو سر پر سجا یاالٰہی (وسائلِ بخشش)