Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
61 - 103
مالدار یا سادگی کا شاہکار جانیں ، اس کی تعریف کریں اور اس کی عزت و تکریم بجا لائیں تو اس صورت میں ایسا لباس پہننے کی مُمانعت ہے چُنانچہ حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللّٰہ اِبنِ عُمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہےکہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:جس نے(دُنیا میں) شُہرت کا لِباس پہنا،قِیامت کے دن اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اس کو  ذِلَّت کا لِباس پہنائے گا۔(1)
لباسِ شُہرت سے مُراد
اِس حدیثِ پاک کے تحت صدرُ الشَّریعہ، بدرُ الطَّریقہ  حضرتِ  علّامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی فرماتے ہیں:لباسِ شہرت سے مُراد  یہ ہے کہ تکبر کے طور پر اچھے کپڑے پہنے یا جو شخص دَرْویش نہ ہو وہ ایسے کپڑے پہنے جس سے لوگ اسے دَرْویش سمجھیں یا عالم نہ ہو اور عُلَما کے سے کپڑے پہن کر لوگوں کے سامنے اپنا عالم ہونا جَتاتا ہے یعنی کپڑے سے مقصود کسی خوبی کا اِظہار ہو۔(2)معلوم ہواکہ اچھی نیت سے  نیا اور عُمدہ لباس  پہننا اور دل میں فَرحت محسوس کرنا شرعاً مذموم نہیں کہ یہ ایک فِطری عمل ہے۔ ہاں ! نَمُودو نمائش کی نیت سے نیا اور عمدہ لباس  پہننا اور پھر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… ابنِ ماجه،کتاب اللباس،باب  من  لبس شھرة  من الثیاب ،۴ /۱۶۳،حدیث:۳۶۰۶
2…… بہارِ شریعت ،۳/۴۰۴ ،حصّہ:۱۶