اِرشاد:اگر کوئی شخص بطورِ عاجزی و اِنکساری سادہ لباس پہنتاہے تو یہ قابلِ تعریف ہے۔ یقیناً وہ لوگ خوش نصیب ہیں جو عُمدہ لباس پہننے کی طاقت رکھنے کے باوجودمحض اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رضا کے لیے عاجِزی واِنکساری اِختیار کرتے ہوئے سادہ لباس پہنتے ہیں،اللہ عَزَّوَجَلَّ بروزِ قیامت ان کوجنتی لباس پہنائے گا چُنانچہ تاجدارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ باقرینہ ہے: جو باوُجُودِ قدرت اچھے کپڑے پہننا،تواضُع (عاجِزی ) کے طور پر چھوڑ دے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے کرامت کا حُلّہ(یعنی جنّتی لباس) پہنائے گا۔(1)
اگر کوئی عمدہ لباس اس نیت سے پہنے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نعمت کا اِظہار ہو تو یہ بھی جائزہے کہ شریعتِ مطہرہ نے اس سے منع نہیں فرمایا بلکہ اس کو پسند فرمایا ہے چُنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے رسول،رسولِ مقبولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ فرحت نشان ہے:بے شک اللہ تعالیٰ یہ بات پسند فرماتا ہے کہ بندے پر اس کی نعمت کا اَثر دکھائی دے۔(2)
لباسِ شہرت باعثِ ذِلّت
ہاں!اگر کوئی عُمدہ لباس یا انتہائی سادہ لباس اس نیت سے پہنے کہ لوگ اس کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… ابو داود ،کتاب الادب ،باب من کظم غیظا ،۴/۳۲۶ ، حدیث:۴۷۷۸
2…… مستدرك حاكم،کتاب الاطعمة ،ان اللّٰہ تعالٰی یحب...الخ ،۵/۱۸۵،حديث:۷۲۷۰