Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
59 - 103
علاج کرنے کا اہل نہیں  تو یہ بھی اس معاملے میں کسی سے کم نہیں،اس کو بھی  موقع ملے تو اپنے آپ کو ڈاکٹر لکھنےاور  کہنے سے نہیں  چونکتا۔(1)
انجینئر اور پروفیسر حضرات بھی بدقسمتی سے اسی زُمرے میں  آتے ہیں ۔ افسوس! فی زمانہ حُبِ جاہ کی نُحُوست عام ہوتی جا رہی ہے،اپنی تعریف کی خواہش تو ہر ایک کو ہوتی ہے مگر ان لوگوں میں یہ چیز زیادہ پائی جاتی ہے۔ اپنا نام بھی ڈاکٹر، سرجن ، انجینئر  اور پروفیسر کہے بغیرنہیں لیتے۔ان سب کو چاہیے کہ جہاں عہدہ  ظاہر کرنے  کی ضَرورت وحاجت  نہ ہو تو وہاں  بِلاوجہ اس  کا اِظہار نہ کریں، اپنی واہ وا کرانے کے لیے اپنی تعریفیں اور دوسروں کی خامیاں بیان کر کے ان کی تذلیل نہ کریں۔ یہ چند باتیں عُمومی اِعتبار سے عرض کی گئی  ہیں،ہر ایک  ایسا ہو یہ ضروری نہیں کہ اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے نیک اورمخلص بندے بھی اس دھرتی پر موجود ہیں۔ 
سادہ لباس پہننے کی فضیلت
عرض:بعض لوگ دولت مند ہونے کے   باوجود عام سا لباس پہنتے ہیں ان کے لیے کیا حکم ہے؟
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… انسان جس وصف کا اَہل نہ ہو اس وصف سے اپنی تعریف کرنا یا سننا پسند کرنا مذموم صفت اور حرام ہے۔ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں :اگر کوئی اپنی جھوٹی تعریف کو دوست رکھےکہ لوگ ان فضائل سے اس کی ثنا  کریں جو اس میں نہیں جب تو صریح حرامِ قطعی ہے۔(فتاویٰ رضویہ،۲۱/۵۹۷)