Brailvi Books

مدنی مذاکرہ قسط 16: نیکیاں چھپاؤ
58 - 103
اِرشاد: ڈاکٹر، سرجن ، انجینئر اور پروفیسر وغیرہ حضرات میں  عموماً حُبِّ جاہ کا غلبہ ہوتا ہے۔اگر کوئی دوسرا ان کی تعریف کرے تو بَہُت خوب ورنہ یہ بیچارے خود اپنے کارنامے بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں مثلاً اگر کوئی ڈاکٹر ہے تو کہے گا کہ فُلاں مریض اتنے ڈاکٹروں کے پاس  گیا، کہیں اِفاقہ  نہ  ہوا  بِالآخر میرے پاس آیا تو دو دن میں ٹھیک ہو گیا۔ فُلاں مریض لاعِلاج (1) تھا مگر میری دوا سے چند دنوں میں اس کی بیماری رفع دفع ہو گئی۔یہی معاملہ سرجن کا ہے یہ اپنی تعریف میں یوں گویا ہوتا ہے کہ ایک مریض کا کیس فُلاں سرجن نے خراب کر دیا تھا، مریض بے چارہ شدّتِ درد سے تڑپ رہا تھا،لوگ اسے  میرے پاس لے آئے،میں نے اس کا آپریشن  کیا تو   کامیاب ہو گیا، اب وہ مریض چلتا پھرتا ہے۔(2)اگر ڈسپنسر ہے اور شرعاً
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…… کسی بیماری کو اس معنیٰ میں لاعلاج قرار دینا شرعاً درست نہیں کہ اس کا علاج ہی نہیں ہے کیونکہ موت کے سِوا کوئی بھی  ایسی بیماری نہیں جس کی دَوا نہ ہو جیسا کہ حدیثِ پاک میں ہے :ہر بیماری کی دوا ہے، جب دوا بیماری تک پہنچا دی جاتی ہے تواللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے مریض اچھا ہو جاتا ہے۔(مسلم، کتاب السلام، باب لکل  داء   دواء…الخ ،ص۱۲۱۰ ، حدیث:۲۲۰۴) ہاں! یہ بات الگ ہے کہ کئی اَمراض کا علاج اَطِبّااب تک دریافت نہیں کر پائے۔(شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)
2…… بِلاحاجتِ شرعی کسی کی خامی یا کمزوری دوسرے کے آگے بیان کرنا غیبت وگناہ ہے،البتہ بعض ڈاکٹر اور سرجن بد عُنوان بھی ہوتے ہیں ،اگر ایسے ڈاکٹروں اور سرجنوں  سے کسی مریض کو بچانا مقصود ہو تو اس نیت سے ان کی کمزوری یا خامی صِرف اُس کے آگے بیان کرنا جسے بتانے میں مصلحت ہو تو اس صورت میں بتانے والا گنہگار نہیں۔(شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)